سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی علی گڑھ

ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کے قیام کے چند ہی ماہ بعد، جنوری 1982ء سے اس کے جرنل “تحقیقاتِ اسلامی” کی اشاعتِ عمل میں آئی۔ اس کا خیال تو بہت پہلے کر لیا گیا تھا، لیکن حالات کی مناسبت سے ایسا موقع ملنے کا منتظر تھا جس کے لیے ضروری مواد مل چکا ہو۔ لہٰذا ایک ایسے وقت کا انتظار تھا جب ادارہ مضبوط ہو جائے اور مختلف علمی مسائل کے مطابق اسے بروئے کار لانے کا مناسب موقع مل سکے۔

پہلا شمارہ علمی نوعیت کے ایک اہم مسئلے کے حل کے سلسلے میں پیش کیا گیا۔ اگرچہ مصنفِ مقالہ نے اسے پہلے ایک سوال کی شکل میں اخبار نوائے وقت لاہور میں شائع کرا دیا تھا، لیکن اس میں ایسی ٹائپ کی خرابیاں تھیں کہ اس کا از سرِ نو کمپوز اور معیاری شکل میں شائع کرنا ضروری سمجھا گیا۔ بنیادی طور پر یہ مقالہ قرآن مجید میں حضرت مریمؑ کے لیے استعمال ہونے والے لفظ “اُخْتَ ہٰرُون” کے بارے میں تھا، جس کے متعلق بعض حضرات نے ایسے اقوال پیش کیے تھے جو نہ صرف اسلامی تاریخ کے خلاف تھے بلکہ لغت اور دیگر دینی علوم کی رو سے بھی درست نہ تھے۔

بعد ازاں “تحقیقاتِ اسلامی” کے متعدد شمارے شائع کیے گئے جن میں مختلف موضوعات، شخصیات اور علمی مباحث کو شامل کیا جاتا رہا۔ اس جرنل کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں اسلامی تعلیمات اور تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو نہایت حوالہ جاتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس جرنل نے نہ صرف علمی حلقوں میں قبولیت حاصل کی بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی اہمیت تسلیم کی گئی۔

اسلامی علوم کے ماہرین، محققین، اساتذہ، مصنفین اور طلبہ اس مجلہ سے مسلسل استفادہ کر رہے ہیں۔ اس میں شائع ہونے والے مضامین میں جہاں تفسیر، حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ جیسے اہم علمی فنون پر تحقیق ملتی ہے، وہیں عالمِ اسلام کے سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری مسائل پر بھی علمی تحقیق کا کام پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شخصیات کے علمی احوال، ان کے کارنامے، خدمات اور تاریخی اہمیت پر مبنی مضامین بھی شامل ہوتے رہے ہیں۔

موضوعات کے تنوع کے لحاظ سے “تحقیقاتِ اسلامی” ایک نہایت جامع و معیاری علمی مجلہ ہے۔ اس میں جدید اور قدیم، دونوں طرح کے علمی مباحث کے لیے جگہ رکھی جاتی ہے تاکہ قارئین کو اسلامی تحقیق کے میدان میں تازہ ترین علمی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

آخر میں، اس مجلہ کی اشاعت کے سلسلے میں ادارے کے اراکین، محققین، معاونین اور قارئین کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے اس علمی و تحقیقی مشن کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔

(سید ضیاء الرحمٰن ندوی)

یہ تحریر ادارہ تحقیقات اسلامی کی اشاعت، شمارہ جنوری 1991ء، نمبر 50 سے ماخوذ ہے۔

Scroll to Top